Poetry & Works - Urdu Poems

Home > Poetry & Works > Urdu Poems
हम को मिटा के क्या भला

غزل
ہم کو مٹاکے کیا بھلا پایا ہے آپ نے
گذرے گی ہم پہ کیا کبھی سوچا ہے آپ نے
پتے حنا کے کہنے لگے روکے ایک دن
ہم کو ہماری شاخ سے نوچا ہے آپ نے
نازک ہمارے جسم کو پھر پتھروں کے بیچ
مسلا ہے اور کچلا ہے ،پیسا ہے آپ نے
یوں ظلم وجبر کر کے بہر طور بے رحم
ہاتھوں کا اپنے روپ سنوارا ہے آپ نے
بے شک ہمارے خون کے قطرے ہی جانئے
جن سے ہتھیلیوں کو رچایا ہے آپ نے
اک ایک قطرہ خوں کا ہمارے نچوڑ کر
ہاتھوں کے ساتھ دل سے اتارا ہے آپ نے
جب اے سراجؔ جاتے رہے رنگ وبو تمام
پھر بے دلی سے گھر سے نکالا ہے آپ نے
سراجؔ دہلوی

 

उम्र का हर साल बस आता रहा

غزل
عمر کا ہر سال بس آتا رہا جاتا رہا
بن کے دیمک جو ہماری زندگی کھاتا رہا
جب کہ میری زندگی بھی کر نہیں پائی وفا
تیرے میرے درمیاں پھر کون سا ناطہ رہا
ایک مورت ٹوٹ کے بکھری مرے احساس کی
کیسی پوجا کیا عبادت ،سب بھرم جاتارہا
خود جلے اور جل کے سب کو دیتا ہے جو روشنی
کیوں اندھیرا اس دئیے کے ہی تلے چھاتا رہا
ہم بنے سیڑھی مگر ہر بار نیچے ہی رہے
رکھ کے ہم پر پاؤں وہ اونچائیاں پاتا رہا
زندگانی کی کسک گیتوں میں میں نے ڈھال دی
گیت میرے غیرکی دھن پہ ہی وہ گاتا رہا
حادثے جیون میں آئے جانے کتنے ہی سراجؔ
حوصلوں کے گیت میں ہر حال میں گاتا رہا
سراج دہلوی

हमारे ज़ख्म के सब फूल

غزل
ہمارے زخم کے سب پھول مسکرانے لگے
گذر گئے ہیں جو لمحے وہ یاد آنے لگے
ہمارے اس دلِ مضطر کی خیر ہو یا رب
تصور میں اب پھروہ آنے جانے لگے
نہ لینا چاہئے احسان ایسے انساں کا
جو احساں کر کے ہمیشہ اسے جتانے لگے
اب ایسے شخص کے ایمان کا بھروسہ کیا
جو آدمی کو ہی یارو! خدا بنانے لگے
خداہی جانے کہ اب ان کا حال کیا ہوگا
گھروندے خوابوں کے کچھ لوگ پھر بنانے لگے
جو رہنمائی کی خاطر جہاں میں آئے تھے
قدم انہیں کے زمانے میں لڑکھڑانے لگے
ہمارے زیرِ عنایت جو رہ رہے تھے کبھی
سراجؔ آنکھ وہی لوگ اب دکھانے لگے
سراجؔ دہلوی

 

भूलकर वो हमें

غزل
بھول کر وہ ہمیں یاد آنے لگا
یوں ستم گر ستم دل پہ ڈھانے لگا
دل تڑپنے لگا ،جان جانے لگی
چھوڑ کر وہ ہمیں جب کہ جانے لگا
ڈھونتی ہیں نگاہیں اسے کو بہ کو
دل میں رہ کر جوخود کو چھپانے لگا
یہ اثر کر گئی اس کی بیگانگی
دل میں غم ،آشیانہ بنانے لگا
اب تو للہ صورت دکھا دے مجھے
زندگی کا دیا ٹمٹمانے لگا
پھیر لی کیوں نگاہیں صنم آپ نے
دل بھی دھڑکن سے نظریںچرانے لگا
اے سراج ؔ اس سے ترکِ تعلق کے بعد
دل اسی کو تصور میں لانے لگا
سراجؔ دہلوی

 

माना के दिल हैरान है

غزل
مانا کہ دل حیران ہے آگے بڑھو آگے بڑھو
غم کا اگر طوفان ہے ، آگے بڑھو آگے بڑھو
رستہ کوئی مشکل نہیں ،ہاں دور اب منزل نہیں
ہمت اگر چٹان ہے، آگے بڑھو آگے بڑھو
رستے میں جو رک جائے گا ،وہ ایک دن پچھتائے گا
یہ وقت کا اعلان ہے ، آگے بڑھو آگے بڑھو
ہمت کی مشعل ساتھ ہے تو خوف کی کیابات ہے
مانا ڈگر سنسان ہے ، آگے بڑھو آگے بڑھو
واقف فقط ہوگا وہی اس زندگی کے راز سے
حاصل جسے عرفان ہے ، آگے بڑھو آگے بڑھو
آواز ہے آہنگ ہے،ہرلمحہ خود سے جنگ ہے
ہستی بھی ایک میدان ہے، آگے بڑھو آگے بڑھو
ہر وقت رہنا باخبر ،ہستی کے رستے پر سراجؔ
کس نے کہا آسان ہے ، آگے بڑھو آگے بڑھو
سراجؔ دہلوی

 

Urdu Sher:

Latest Books:

  • Duniya Maya Jaal
    Language: Hindi
  • Duniya Maya Jaal
    Language: Urdu
  • Dhanak Rang
    Language: Hindi
  • Dhanak Rang
    Language: Urdu
  • Yadoon ka Jangal
    Language: Hindi
  • Jisne Jahan Banaya
    Language: Hindi
  • Barf ki Wadi Mein
    Language: Hindi
  • Barf ki Wadi Mein
    Language: Urdu
  • Chandni Sahmi Hui
    Language: Urdu
  • Chasme Shaqi Se
    Language: Urdu
  • Daya Sagar
    Language: Urdu
  • Dil ke Sanam Kade Mein
    Language: Urdu
  • Dil se Dildar Tak
    Language: Urdu
  • Duniya Ki Nigahon Mein
    Language: Urdu